18 اکتوبر 2012 - 20:30

آل خلیفہ کی ایک سکیورٹی کمیٹی کے سعودی عرب کے دورے سے ایک بار پھر واضح ہوگيا کہ ملت بحرین کے قتل عام میں آل خلیفہ اور آل سعود کے کارندے ملوث ہیں۔

ابنا: آل خلیفہ کی سکیورٹی کمیٹی شاہی پولیس اکیڈمی کے نائب سربراہ کی سرکردگي میں سعودی  عرب گئي ہے اور اس کے دورہ ریاض کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیاں سکیورٹی تعاون میں فروغ لانا بتایا گيا ہے۔ آل خلیفہ کی سکیورٹی کمیٹی کا دورہ سعودی عرب ایسے عالم میں انجام پارہا ہےکہ آل سعود کے جارح فوجی کئي مہینوں سے آل خلیفہ کے  ہمراہ بحرین کی انقلابی قوم کا خون بہانے میں مشغول ہیں۔ بہت سے سیاسی حلقوں کا کہنا ہےکہ آل سعود کی جانب سے آل خلیفہ کی حمایت ہی ملت بحرین کی سرکوبی میں شدت آنے کا سبب بنی ہے۔ بحرین سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کے کارندوں کے زہریلی گيس استعمال کرنے سے ایک اور انقلابی شہید ہوگيا ہے مھدی مرھون نامی ایک انقلابی گھر پر آنسو گيس کے گولوں کے داغے جانے کے بعد دم گھٹ کر شہید ہوگيا۔ جمعیت الوفاق نے آل خلیفہ کے زہریلی گيس کےحملوں کی مذمت کرتےہوئے اسے دہشتگردانہ اقدام قراردیا ہے۔ آل خلیفہ کی اس تشدد آمیز روش میں اب تک دسیوں انقلابی افراد دم گھٹ کر شہیدہو چکے ہیں لیکن عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آج تک اس انسانیت سوز حربے کی مذمت نہیں کی ہے اور نہ ہی رد عمل دکھایا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آل خلیفہ کی یہ تشدد آمیز کاروائياں جبکہ انقلابیوں کی گرفتاریاں عروچ پر پہنچ چکی ہے اور بے گناہ افراد کو بڑی تعداد میں گرفتار کیا جارہا ہے۔ ان افراد کا جرم بس اتنا ہے کہ وہ اپنے ملک میں اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بحرین کی پارلیمنٹ کے سابق رکن عبدالمجید السبع نے کہا ہے کہ گذشتہ فروری سے ابتک چار ہزار پانچ سو افراد کو آل خلیفہ کی تشدد آمیز اور امتیازی پالیسیوں کی مخالفت کرنے اور اپنے مطالبات پیش کرنے کی وجہ سے گرفتار کرکے کال کوٹھریوں میں ڈال دیا گيا ہے۔ بحرین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہےکہ گذشتہ دیڑھ برس سے کم از کم اسی سیاسی اور انقلابی رہنماؤں کو گرفتار کرکے قید کردیا گيا ہے جہاں انہیں طرح طرح سے جسمانی ایذائين پہنچائي جاتی ہیں اور نہایت ہی غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ آل خلیفہ کی جیلوں میں قیدیوں کے ابتدائي ترین حقوق کا بھی احترام نہیں کیا جاتا۔ بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں امریکہ اور برطانیہ کی حمایت کے تحت جاری ہیں اور امریکہ سمیت مغربی ممالک آل خلیفہ کو بدستور ہتھیار اور فوجی سازو سامان فراہم کررہے ہیں جن سے وہ نہتے عوام کو کچل رہی ہے۔ بحرین اور برطانیہ کے درمیاں حال ہی میں منعقد ہونے والا فوجی تعاون کا معاہدہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے۔ مغربی ممالک کے علاوہ آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت کو خلیج فارس کے عرب ملکوں کی سپر جزیرہ نامی فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے جس میں فوجی اور لاجسٹیک حمایت بھی شامل ہے اور اس ہمہ گير حمایت کا بنیادی مقصد بحرینی عوام کے انقلاب کو ناکام بنانا ہے۔ بحرین کے انقلاب کے تعلق سے حقیقت یہ ہےکہ ملت بحرین نے آل خلیفہ کے جرائم کو نظر میں نہ لاتے ہوئے اپنے اھداف تک پہنچنے تک اپنی انقلابی تحریک جاری رکھنے کےعزم کا اظہار کیا ہے۔ ملت بحرین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے ملک میں منتخب حکومت اور سماجی عدل و انصاف پرمبنی نظام حکومت نہیں آجاتی وہ اپنی انقلابی تحریک جاری رکھیں گے اور آل خلیفہ کی تشدد آمیز پالیسیوں سے ہرگز پسپائي اختیا ر نہیں کریں گے۔

.....

/169